Pages

Showing posts with label Other Videos. Show all posts
Showing posts with label Other Videos. Show all posts

Friday, 9 February 2018

Will See ? Very Useful Clip ( دیکھاجائے گا )

آج کل لوگوں کو آخرت کی فکر نہیں اور اپنے اپنے کاموں اسے مگن ہیں کہ درست اور غلط کا بھی اندازہ نہیں لگا پاتے اور غلط کام کو بھی نیکی سمجھ کر کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اللہ اور اسے کے رسولﷺ کی خوف بھی دل سے نکل گیا ہےاور اتنے بے باک ہو گئے ہیں کہ غلط کرنے کے بعد ہر کوئی یہ کہتا پھرتا ہے کہ ارے کیا ہوا ہےجو ہوگا دیکھا جائے گا۔

  • قبر میں آگ لگے گی تو کیا دیکھا جائے گا۔
  • قبر میں سانپ اور بچھو مسلت ہوں گے تو کیا دیکھا جائے گا۔
  • حسین و جمیل چہرے پر سانپ اور بچھو چھوڑے جائیں گے تو کیا کریں گے۔
  • اگر جوانی کسی موزی بیماری کے نظر کر دی گئی تو کیا دیکھا جائے گا۔
ملے   خاک   میں    اہل   شاں   کیسے   کیسے
زمین    کھا    گئی    نوجواں    کیسے    کیسے

ڈل جائے گی یہ جوانی جس پر  تجھ کو ناز  ہے
تو بجا لے چائے جتنا چار    دن   کا   شاز   ہے

  • نماز چھوڑ نے پر سمجھایا جائے تو کہتے ہو دیکھا جائے گا۔
  • فرشتے ہتھوڑے ماریں گے تو دیکھا جائے گا۔
  • جب پُل صراط پر چلیں گے تو پتا چلے گا دیکھا جائے گا۔



Thursday, 8 February 2018

The Episode Of The Lover From Yaman ( یمن سے ایک عاشق کا واقعہ )

ایک مرتبہ نبی ﷺ نماز آدا کر رہے ہیں اور نماز کے دوران ہی ایک قدم آگے ہوئے اور ہاتھ بڑھاتے ہیں نماز پڑھنے کے بعد صابہ کرام آپﷺ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا وجہ ہے ہم نے آپﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ نماز کے دوران اگے ہوئے اور اپنا ہاتھ بڑھایا تو اس کی وجہ کیا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ میں جنت دیکھ رہا تھا۔

ایک عاشق یمن سے حج کیلئے جا رہا تھا کسی نے اس سے کہا کہ میرا سلام

  • حصورﷺ کی برگاہ میں کہنا
  • صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہُ
  • فاروق عاظم رضی اللہ تعالی عنہُ
کی برگاہ میں پہنچا دینا وہ عاشق جب وہاں پہنچا تو اس کو سلام کہنا بھول گیا اور جب حرام لگانے لگا تو اس کو خیال آیا کہ مجھے تو کسی نے سلام کرنے کے لئے کہ تھا کہ آپﷺ کی برگاہ سلام کہنا تو وہ کافلے والوں کو کہنے لگا کہ میرا انطار کرنا میں کسی کا سلام آپﷺ کی برگاہ میں پہنچا آئو تو اس پر کافلے والوں نے کہا کہ کافلہ آپ کے لئے نہیں روک سکتے اور اگر کافلہ نکل گیا تو آپ کبھی بھی اس کو نہیں بہنچ پائیں گے اس پر اس عاشق نے کافلے والوں سے کہا کہ میری سوای ساتھ لے جائو میں سلام کر کے کافلے کے ساتھ مل جانے کی کوشش کروں گا اور اگر نہ پہنچ سکا تو اللہ تعالی کوئی بہتر انتظام کر دے گا۔



Forgetting To Do Literature By Listening To Allaah ( اللہ تعالی نام سن کر ادب کرنا سے بخشش )

جن لوگوں نے آخرت کو سامنے رکھا ہوا ہوتا ہے قبر اور قیامت کی فکر کرتا ہے ملکہ زبیدہ جو ہارون رشید کی پیوی تھی اس کا خاوند اتنا بڑا بادشاہ تھا انگریز لکھتے ہیں اتنی بڑی سٹیٹ کے تین برے عاظم اس کی سٹیٹ میں آتے تھے سورج ظلوع بھی اس کی سلطنت میں ہوتا تھا اور غروب بھی اس کی سلطنت میں ہوتا تھا اتنے بڑے بادشاہ کی بیوی اور کئی مرتبہ ہیرے اور جہورات میں تولی گئی تھی مگر قبر یاد رہتی تھی قیامت یاد رہتی تھی اس نے اپنے پیسوں تین سو حافظ قرآن لونڈیاں لی تھیں اور سب کی سب حافظ قرآن تھیں جو کپڑے وہ خود پہنتی وہی ان سب کو دیتیں اور جو خود کھاتیں وہ ہی ان کو کھانے کو دیتیں اتنی خرید لیں تو انہوں نے پوچھا کہ ہماری ڈیوٹی کیا ہے اس نے کہا ڈیوٹی تمہاری صرف اتنی ہے اچھے سے اچھا پہنائوں گی اچھے سے اچھا کھلائوں گی اچھے سے اچھی رہائش دوں گی کرنا صرف یہ کہ میرے محل میں چوبیس گھنٹے قرآن پاک کی تلاوت ہونی جائیے کوئی ٹائیم خالی نہیں ہونا چائیے۔

تو موہرخ لکھتے ہیں اس اللہ کی بندی نے جب تک زندہ رہی تین سو حافظ قرآن لونڈیاں چوبیس کھنٹے قرآن پاک کی تلاوت کرتیں تو جب فوت ہو گئی تو خواب میں ایک سہلی کو ملیں تو پوچھا ہا تیرے ساتھ کیا سلوک ہوا تو کہنے لگی کہ رب کے کرم کا کچھ نہ پوچھ جب میں قبر میں گئی نا تو میرے رب نے مجھے آواز دی زبیدہ خوشخبری سن لے ایک بار تو روٹی کھا رہی تھی تو نے لکمہ توڑہ تھا اور منہ کے قریب کیا تھا اودھر مسجد سے آزان کی آواز آئی تھی پھر تو نے لکمہ وہاں سے ہٹا کر واپس کیوں رکھ دیا تھا زبیدہ نے کہا میرے رب تو جانتا ہے کہ میرے سر کا دوپٹہ اُترا ہواتھا تو میں نے تیرے نام سن کر اپنا سر ڈھانپ لیا تھا تو رب نے کہا سن زبیدہ تیرے اتنے عمل پر میں نے تیری بخشش کر دی تھی۔

Human Desires & Humility & Forgiveness ( انسانی خواہشات اور عاجزی، معافی )

صلطان محمود غزنوی ایک محبوب مشیر تھا ایاز اور بدشاہ اس سے بہت سارا پیار کیا کرتا تھا بہت محبت کرتا تھا اور باقی کے جو وزیر اور مشیر تھے وہ ایاز سے حسد کیا کرتے تھے کہ اس میں بادشاہ نے کیا خوبی دیکھ لی کہ بادشاہ اس سے بہت پیار کرتے ہیں تو لمہ بلمہ ان کی باتوں سے ان کے عمال سے حسد ظاہر ہرتی رہتی تھی اور باشاہ کبھی کبھی ایاز کی خوبیاں باقی سب کو بتاتا رہتا کہ سب کو پتا چل جائے کہ میں کس وجہ سے اس سے محبت کرتا ہوں۔

ایک مرتبہ باشاہ نے اپنی مٹھی میں کیمتی موتی لیے اور ان کو بھرے مجمے میں تلاب میں پھینک دیا اور جتنے بھی وزیر تھے سب کو باری باری کہا کہ موتیوں کو نکال کر لے آئو اور دیکھو تمہارا لباس نہیں بھیگنا چھائیے تمہارے بدن بھی گیلا نہ ہو تو سب کہنے لگے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ تلاب کی تہ سے موتی نکال کر لائیں اور کپڑے اور بدن بھی گیلانہ ہو یہ کیسے ہو سکتا ہےسب نے معزت کر لی اور آخر میں ایاز کو کہا گیا کہ سُنو یہ موتی نکال کر لائوں اور سنو تمہارا بند اور کپڑے دونوں گیلے نہیں ہونے چائیے اس نے فوراً چھلانگ لگائی اور موتی نکالے اور بادشاہ کے سامنے پیش کر دیے بد اور لباس سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں بادشاہ نے بڑے خصے سے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ بدن اور لباس گیلے نہیں ہونے چائیے تھےتو اسے نہیں ہو کیوں ایا ز بولا بادشاہ آپ بے دو حکم دیے تھے ایک موتی نکال کر لائو اور دوسرا کپڑے اور بدن گیلا نہیں ہونا چائیے تو موتی تو میں نکال لایا ہوں اور بدن اور لباس کے لئے میں معافی چاہتا ہوں تو بادشاہ نے کہا کہ یہ خوبی ہے اس کے اندر۔

  • انسان کو نیکی کرنے کا حکم دیا گیا
  • اور بہت ساری خوائشات رکھی گیئ انسان کے اندر
  • تو نفس سے لوامہ وہ ہے جو نیکی کے موتی تو نکال لیتا ہے
  • اور اگر کوئی بدی اور گناہ ہو جاتی ہے اس کی معافی مانگ لیتا ہے
  • اللہ تعالی کہتا ہے مجھے اس نفس لوامہ پر پیار آتا ہے


How Many Bodyguard Of Muhammad Ali ( اللہ عزاوجل )

Question:                  Do You Have A Bodyguard ?
Answer M.Ali:      (Counting Sarcastically) Nah, (You Don't?) I Have One Bodyguard. He Has No Eyes. Though He Sees he Has No Ears. Though He Hears He Remembers Every Thing. With The Aid Of Mighty Memory (But Has No Memory) When He Wishes To Create A Thing, He Just Orders It To Be And It Comes Into Existence But His Orders Is Not Commanded With Words.  Which Takes The Tongue To Follow It Or The Sound Carrying Ears He Hears The Secrests Of Those Under Quiet Thoughts. (Assume Who Is That?) That's God, Allah. He's My Bodyguard. He Is Your Bodyguard. 

O Prophet, ﷺ Tell Your Wives And Your Daughters And The Women Of The Believers.
And The Women Of The Believers To Bring Down Over Themselves (Part) Of Their Outer Garments. 
That Is More Suitable That They Will Be Known And Not Be Abused.
And Ever Is Allah Forgiving And Merciful.

Surat Al'Ahzab (33:59)


Zaydti Ka Hesab(ذیادتی کا حساب)

ایک مکران شاہ بادشاء گزرا ہے ایران کا کچھ نرم دل تھا وہ سیر کرنے نکلا درمیان میں ایک پُل تھا جس کے دوسری طرف ایک جنگل تھا سبزہ سیر گاہ تھی بادشاء نے وہاں دو چار دن رہنے کا فیصلہ کیا جب وہاں پہنچتاہے تو اس نے دیکھا وہاں جہل ہے سیر گاہ ہے تو وہاں رہنے کی تیاری کر لی بادشاء کے لئے ایک الگ رہائش تھی جبکہ سپائی الگ رہتے تھے گن میں الگ رہتے تھے مکران شاہ سیر سپاٹے پر رہتا تھا ایک بوڑھی عورت تھی اُس کی ایک گائے تھی وہ جنگل میں رہتی تھی اور اس کی گائے بھی جنگل میں چرتی رہتی تھی شام کو گائے واپس گھر لوٹتی بوڑھی دودھ پیتی اور سو جاتی سپائی بوڑھی کے پاس آئے اور کہنے لگے تیری گائے بہت صحت مند ہے ہمارے ہاتھوں بیچ دے بوڑھی نے جواب دیا میرے بڑھاپے کا سہارہ ہے میں اس کا دودھ پی کر زندہ رہتی ہوں پیچوں گی نہیں سپائیوں نے کہا نہیں بیچے گی ہم پھر بھی لے لیں گے اُس عورت کی گائے زبردستی ذبہ کر کے سپائی کھاگئے بوڑھی نے بادشاۃ تک پہچنا چاہا لیکن اس کو وہاں تک جانے نہ دیا گیا کسی نے اس کو بتیا کہ اس وقت بادشاہ سیر کر کے واپس اس پُل سے گزرے گا تو وہ پُل کی ایک سائڈ پر چھپ گئی اور جب مکران شاہ پُل سے گزرنے لگے تو آگے آئی اور اُس کے گھوڑے کی لگام پکڑی ایسا جملہ کہا کہ مکران شاہ چکرا کہ زمین پر گرا بوڑھی نہ کہا اُو مکران شاہ تیرے سپائی میری گائے ذبہ کر کے کھا گئے ہیں تو بتا تو اس کا حساب اس پُل پر دینا ہے یا پُل پل صراط پر دینا ہے


Importance Of Mother & Its Love (ماں اور اس کی محبت کی اہمیت)

  • فائف سٹار ہوٹل میں کھانا کھانے میں وہ لزت کہاں جو میں چولہے کے پاس بیٹھ ہمارے لئے بناتی ہے۔
  • سٹیج سکٹری کیا کیا نام لے کر بولاتا ہے عالی جناب حضرت صاحب لیکن وہ لطف کہاں جو ماں نام لے کر پوکارتی ہے۔
  • اُنچی کرسی پر بیٹھنے کا وہ لطف نہیں ہے جو ماں کے قدموں میں بیٹھ کر آتا ہے۔
  • اللہ تعالی نے ماں کے دودھ کے اندر ایک محبت اور ایک الفتوں کا ایک دریا دیا ہے کہ انسان جب اس میں جاتا ہے تو اس کے سب دکھ دُل جاتے ہیں۔
  • دنیا میں ماں کی محبت کا بدل نہیں ہے۔
  • آج کل ہر چیز میں دو نمبر موجود ہے دھوکا ہے فراڈ ہے لیکن واحد ماں کی محبت ہے جس میں کوئی فراڈ نہیں کوئی دھوکا نہیں۔
مدد   ہوئی   میری    ماں    نہیں     سوئی     تابش
میں نے ایک بار کہا کہ مجھے رات کو ڈرلگتا ہے

Demand Of Materiel On Marriage (شادی پر جہیز کا مطالبہ)

میرے پاس ایک خاتون آئی کہنے لگی کہ پچاس ہزار رہپے میں نے اُدھار لیئے تھے جو کہ سود پر لئے گئے تھے اب وہ ڈیڈلاکھ ہو گیا ہے اب وعدہ آگیا ہے اور میں دے نہیں پا رہی ہوں ساتھ اُس کے بچہ تھا جہ ٹانگوں سے معزور تھا آپ کسی کو بھہجیں وہ میرے دروازے پر گھڑے ہوں گے آپ نے کسی مجبوری میں لیے ہوں گے ہاں میں نے بیٹی کی شادی کی جس کے لئے لوگوں کے برتن صاف کر کر کے اُس کے جہز کا سامان جمع کیا تھا لیکن لڑکے والوں نے شرط رکھی کہ ہم ایک لوگ لے کر آئیں گے جن کو کھانا کھلانہ پڑے گا تو اُس کو پورا کرنے کے لئے اُدھار لیا تھا تو میں نے کہا کہ آپ اپنے رشتہ داروں شادی کر لیتی جن کو آپ کا خیال ہوتا تو کہنے لگی کہ جو بارات لے آیا تھا وہ میرا سکا بھائی تھا۔

  • غریب بھی غریب پر ظلم کر رہا ہے
  • امیر بھی غریب پر ظلم کر رہا ہے
  • جہیز ایک بیماری ہے
  • لوگوں کا بھی جہیز کا مطلبہ
  • بس ماگنے ایک نیا انداز ہے
  • سب سے اہم زمہ داری لڑکوں والوں کی

Thinking Of Passing The Time ( وقت کے گزنےکاخیال )

ایک نبدہ باہر سے آیا اس نے ایک منطر دیکھا کہ پھاٹک بند تھی اور لوک سائیکل سر پر اُٹھا کر وہاں سے گزر رہے تھے اس نے کہا کہ یہ اتنی فاسٹ قوم ہے انتی فاسٹ قوم ہے کہ گاڑی کے گزر جانے کا بھی انطزار نہیں کرتی اور بعذ موٹر سائیکل  یہاں وہاں سے گزار رہے ہیں اتنی زمہ دار قوم اتنا وقت کا خیال اور جب وہ پھاٹک کھولا وہ آگے گیا تو دیکھا کہ پانچھ سو لوگ بندریہ کا تماشہ لگا ہوا ہے وہ دیکھ رہے تھے یہ جلدی تھی یہ تماشہ دیکھنا تھا سب نے ہمارا یہ حال ہے کہ تیں تیں کھنٹے تک وہاں گھڑے رہتے ہیں کہ ہم اتنے فارغ ہیں۔

  • وقت کیا خیال نہیں
  • بے فضول کام کے لئے ٹائم ذیائع کرنا
  • فضول گوئی میں ٹائم برباد کرنا
  • زندگی چلتی جا رہی ہے روکتی نہیں ہے
  • وقت کا استعمال کوں درست کرتا ہے
  • کوں وقت کو اپنے اصلی مقصد میں صرف کرتا ہے
  • سانسیں موت کی طرف اُٹھنے والے قدم ہیں
  • سانسیں پگلتی جا رہی ہے زندگی بھی پگلتی جارہی ہے
  • دنیاں ایک دن ہے
  • ایک رات کی زندگی ہے  ہنس کے گزار دے یا رو کے
  • زکرو فکر میں گزار دے یا عیش و عشرت میں گزار دے
  • رب کی یاد میں یا غفلت میں گزار دے


Is Ya Rosul God (یارسول اللہ) Become A Polytheist ? (کیا یارسول اللہ کہنے سے بندہ مشرک ہوجاتا ہے ؟؟)

اس عمت کے بعدمیں آنے والے لوگ پہلے گزروں پر لعنت کریں گے کہیں مجھے تو پتہ ہی نہیں ہے پاکستان کے اندر اس پر باقائیدہ طور پر ارٹیکلز چھپے ہیں کہ محمد بن قاسم کہ وہ ڈاکو تھا سلطان محمود لوٹیرا تھا یہ مظامیں شائعہ ہوئے صابہ کو گالیاں نہں دی جا رہی ہیں کتنے ہی لوگ ہیں جو یہ کر رہے ہیں اور پیارے نبیﷺ کے والدیں کے بارے میں مبروں پر بیٹھ کر جہنمی نہیں کہا جا رہا ہے کیا امامِ حسین کو باغی نہیں جہا جا رہا پہلے لوگ اندر اندر بات کرتے تھے کتابوں پر لکھ کر چھاپتے تھے لیکن اب یہ باتیں مسجدوں کی مبروں تک آگئے ہیں اس پر با قائیدہ اجتمعات منقد ہو رہے ہیں کیا کیا چکھ نہیں ہو رہا ہے اور پیارے نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ سب کچھ ہونا ہے۔

پیارے نبیﷺ نے فرمایا کہ وہ وقت آئے گا کہ جو آخر والے ہوں گے وہ سمجھیں کہ ہم ہی دین دار ہیں ہمیں دین کا ٹھیکا ہے اور پچھلوں پر لعنت پیجھیں گے  کہ انہیں کیا پتہ تھا دین کا آج پچھلوں کے عقائد پر حملے ہو رہے ہیں انہیں مشرک کہا جا رہا ہے میں نے ایک دن کہا تھا بڑھے زور سے کہا جا رہا تھا کہ جی جو یا رسول اللہ کہے وہ مشرک ہو جاتا ہے اس کا اثر کہاں تک جاتا ہے۔

  • آقا کریمﷺ کی موجودگی کے اندر بھی
  • جنگ کے اندر یا محمد کا نعرہ
  • دس ہزار صابی جنگ یمامہ میں یا محمد کا نعرہ
  • حضرت زین عابدین کی نعرہ یا رحمت العالمین
  • حضرت زینب سلام اللہ علیہایا محمداہو یا محمدا ہو


Protect A Drunk From Snake (ایک شرابی کی سانپ سے حفاظت)

ایک بزرگ کا مشہور واقعہ ہے فرماتے ہیں کہ میں نہر کے کنارے چلرہا تھا میں نے ایک بچھو کو دیکھا کہ وہ پانی کی طرف جا رہا ہے میں جانتا تھا کہ بچھو تہرنا نہیں جانتا تو وہ پانی کی طرف کیوں جا رہا ہے تو جب میں نے غور کیا  تو میں نے دیکھا کہ ایک کچھوا پانی کے کنارے پر بیٹھا ہو ہے یہ بچھو اُس کی پیٹ پر جا کر بیٹھ گیا اور کچھوے نے پانی پر تہرنا سروع کر دیایہ بزرگ فرماتے ہیں کہ میں بھی پیچھے پیچے چل دیا وہ کچھوا دریا کے دوسرے کنارے پہنچا تو بچھو اس کی پیٹ سے اُتر گیا تو اُس نے ایک طرف کو بگنا شروع کر دیا میں بھی اُس کے پیچھے تھوڑی دیر بعد میں نے دیکھا سامنے ایک درخت تھا اور درخت کے نیچے کوئی بندہ سو رہا تھا اور بچھو اُودر ہی کو جا رہا تھا میں نے دل میں سوچا کہ میں ایک لکری اُٹھا لیتا ہوں اگر یہ بچھو اس کے پاس جاتا ہے تو میں بچھو کو ماروں گا اتنے میں نے دیکھا ایک ایک طرف سے ایک کوبرہ سانپ ہے وہ اسی بندے کی طرف جا رہا ہے جس طرف بچھو جا رہا تھا جب وہ سانپ بچھو کے قریب سے گزرنے لگا تو بچھو اس کے ساتھ چمٹ گیا اور اس نے اپنا ڈنگ اس سانپ کو مارا جو کہ اتنا ذہریلہ تھا کہ سانپ وہاں ہی لوٹ لوٹ کر جگہ پر ہی مر گیا پھر بچھو واپس میں نے دیکھا کہ کچھوا کھڑاتھا یہ بچھو اس کی پیٹ پر بیٹھا اور کچھوا پہلے کنارے پر آگیا اور بچھو اُتر گیا میں نے سوچھا یہ جو درخت کے نیچے سونے والا ہے کوئی بہت بڑا وقت کا ولی ہو گا اور میں واپس لوٹ کر آیا اور سوچا اس ولی سے دعا کرواتا ہوں تو میں نے دیکھا کہ وہ نوجوان تھا اور اُس کے منہ سے شراب کی بُو آرہی تھی میں نے اُس کو جگایا اور اس سے کہا دیکھ تو تو شراب پی کر میٹھی نید سو گیاتھا جب کہ تیرا رب جاگ جاگ کر تیری حفاظت کرتا رہا۔

جب اُس نوجوان نے اپنے سامنے سانپ کو مرے دیکھا اور رونے لگا اور کہنےلگا کہ اے اللہ تعالی آپ کتنے کریم ہیں کہ میں کبیرہ گناہ کر کے میٹھی نید سو رہا تھا تو میرا پرور دگار جاگ جاگ کر میری حفاظت فرماتا رہا اس نے کہا  کہ آج کے بعد میں اپنے اللہ تعالی کی نافرمنی نہیں کروں گا۔






اللہ کی قدرت کا حیرت انگیز واقعہ ضرور سنیں اور اس سبق آموز واقعہ کو شئیر بھی کیجئیے۔

Importance And Power Of DUA ( دعاکی اہمیت اور طاقت )

دعا اللہ تعالی سے راض اور نیاز کی باتیں ہیں جو باتیں انسان کسی سے نہیں کر سکتا ہے وہ اللہ تعالی سے ڈیرکٹ کرتا ہے اپنے دل کے سارے دکھڑے اپنے رب کی دہلیز پر رکھتا ہے اور اپنی ساری ضرورتیں اپنے رب کی چوکھٹ پر رکھ دیتا ہے اور اس سے مانگتے ہو ئے بندے کو شرم نہیں آتی حیاء نہیں آتی بلکہ اُس سے مانگتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہے کہ میں اپنے رب سے مانگ رہا ہوں کسی اور سے مانگے تو ججک لگتی ہے لیکن مالک سے مانگیں تو  اپنایت کا احساس ہوتا ہے کہ میں اُس سے مانگ رہا ہوں کیوں کہ وہ ہمارا رب  لگتا ہے ہمارا اُس سے ربت کتنا ہے۔

مسجدِ نبویﷺ کا ایک کونا تھا وہاں ایک بندہ بیٹھ کر دیا مانگ رہا تھا اس کے دعا کے لفظوں پر غور کی جیئے۔اے اللہ میں تجھ سے اس لئے مانگتا ہوں کہ تو میرا اللہ ہے تیرے علاوہ میرا ہے بھی تو کوئی نہیں۔

تو یہ وہ دعا مانگ رہا تھا اور مسجدِ نبویﷺ کے ایک کونے میں بیٹھا تھا حضورﷺ نے دیکھا تو ایک صابی سے کہا وہ جو دعا مانگ رہا ہے اُس کو جا کر بتا دو کہ تمہاری دعا قبول ہو گئی ہے وہ مانگ ہی اس انداز سے رہا ہے تو یہ دعا  اپنے رب سے ایک نیاز ہے دعا خود ایک عبادت ہے جب تمہارے ضروتوں کا کفیل وہ خود ہے تو اُس سے نہیں مانگیں گے تو کس سے مانگیں گے تو جب اُس سے بندہ مانگتا ہے توپھر وہ مانگنے والا کی لاج بھی رکھتا ہے۔

تمہارا رب حیاء کرنے والا کریم ہے جب بندے اُس کے سامنے آتھ پھیلا کر دعا مانگتے ہیں اللہ تعالی فرماتا ہے مجھے شرم  آتی ہے اُ ن کے اُتھے ہوئے ہاتھ خالی کیسے موڑ دوں جب اُنہوں نے مجھ سے مانگا ہے تو میں نے بھی نہ دیا تو کوں دے گا اگر کسی دنیاں دار کے ڈیرے پر چلے جائیں اور اُس سے کوئی چیز طلب کریں اور وہ دینے کی صلاہیت رکھتا ہو تو وہ کیا خالی لوٹائے گا وہ کہے گا کہ اتنے لوگ آگئے ہو تو ڈیرہ داری کے خلاف کہ میں خالی لوٹائوں تو جب یہ دنیاں دار خالی نہیں لوٹاتا تو رب کیسے خالی  لوٹائے گا۔

  • علماء نے کہا دعا ہر صورت قبول ہوتی ہے
  • فورن قبول ہو بھی جاتی ہے
  • کبھی فورن نہیں ملتی
  • کچھ عرسے کہ بعد قبول ہو جاتا ہے
  • حشر کے دن اُس دعا کا بدلہ وصول
  • حشر کا بدلہ دیکھ کر آرزو کہ دنیا کی کوئی دعا قبول نہ ہوتی
  • کبھی مانگے گئے کے بدلے کچھ اور دیا جاتا ہے
  • جو بہتر ہوتا ہے حکمت کے تحت عطا کیا جاتا ہے
  • اللہ اپنے بندوں کے اُٹھے ہوئے ہاتھ پسند کرتا ہے
  • ہر صورت میں دعا قبول ہوتی ہے




Heart Purification,Good Deeds & Charity ( دل کی پاکی اور اچھےعمل اور صدکہ )

پیارے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا بے شک اللہ تعالی تمہاری صورتوں کو اور تمہارے اموال کو نہیں دیکھتا کون کتیا مال دار ہے کس کی شکل کسی ہے وہ اسے نہیں دیکھتا وہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے اور تمہارے عملوں کو دیکھتا ہے تو اس لئے صورت جیسی بھی ہو وہ تو اللہ تعالی کی بنائی ہوئی ہے تو ہمیں اپنی سیرت کو سوارنے کی کوشش کرنی چائیے جتنی کوشش ہم اپنی شکل سوارنے میں کرتے ہیں یہ رنگ گورہ کرنے والی کریمیں اس وقت فروخت ہو رہی ہیں ہر شخص اس چکر میں ہے کہ میں اچھا بلا دیکھائی دوں صورت سے شکل سے لیکن رب چاہتا ہے کہ میرے بندے کی سیرت اچھی ہو رنگ بلالی بھی ہو لیکن صورت کی بجائے سیرت کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے  حضرت باہو نے بھی کہا تھا۔

کہ دل کالے نالوں منہ کالا چنگہ
جے کوئی اے نبز پچھاڑیں ہو

تو اصل بات دل کی پاکیزگی کی ہے دل کی طہارت کی ہے مال دار بننے کیلئے اٹھارہ اٹھارہ گہنٹے بھی ہم کام کرتے ہیں کہ مال زیادہ ہو جائے اور عمال اگر ہم مسجد میں نماز پڑھنے کیلئے آبھی جائیں تو عمال کو سوارنے کی طرف ہمارے توجہ نہیں ہوتی مجالس کی اندر ہم بیٹھ بھی جائیں تو ہمارے خیالات بھٹکتے ہوتے ہیں اور مجلس میں جو خیر کی باتیں ہیں اس دور میں حاصل ہو رہی ہوتی ہیں ہم ان سے بھی نفہ حاصل نہیں کر رہے ہوتے ہیں۔ حضورﷺ فرماتے ہیں کہ رب عزوجل فرماتے ہیں ۔

کہ میں شریک ٹہرانے والوں کے شرک سے بے نیاز ہوں جس نے کوئی عمل کیا جس عمل میں  اس نے مرے ساتھ کسی کو شریک کیا تو میں اُس کو بھی اور اُس کے عمل کو بھی اور اُس کے شرک کو بھی میں ترک کرتا ہوں چھوڑتا ہوں وہ جانے اور اُ س کا عمل جانے۔

تو جو عمل ہو وہ صرف راضائے اللّٰہی کہ لئے ہونا چائیے اگر کسی کے دکھاوے کے لئے عمل کیا ہے تو یہ عمل ،عمل ہی نہیں ہے اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں ہرگز قبول نہیں ہے جس میں کسی کے دکھاوے کا اُنسر شامل ہو جائے ہم اپنے عمل برباد نہ کریں۔






Wednesday, 7 February 2018

Hari Of Hazrat FATIMA ZAHRA (رضی اللہ تعالی عنہا) How Much Truth ?

یقیناً عورتوں میں ہم نے حیا جو پڑھی اور سنی ہے وہ حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بارے میں ہے کہ آپ حیا کی پیکر تھیں اور آپ نے یہاں تک خوائش  کی تھی کہ مجھے رات کو دفنایا جائے تو کافی جگہ سنا گیا ہے کہ آپ کے بال مبارک کی زیارت کروئی جاتی ہے عورتوں کو تو اس بات میں کتنی سجائی ہے۔

  • آپ رضی اللہ تعالی صرف ایک بار مسکرائیں
  • کفن میں لپٹی ہوئی لاش کوئی دیکھے یہ گوارہ نہ تھا
  • کوئی زیارت بال مبارک کی نہیں کروائی جاتی
  • کسی روایت میں بھی نہیں پایا گیا کہ اسا کچھ ہوا ہو


Punishment On A Women Because Of A Cat (بلی کی وجہ سےعورت پر عذاب)

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہُ فرماتے ہیں کہ  نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ کیا ہی خوبصوت بات ہے کہ جب بھی آپﷺ کا ارشاد کوئی بھی سُناتا ہے کبھی اُس نے اپنا زشتہ ساتھ لگا کر نہیں کہا جیسا کہ۔

  • حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کبی یہ نہیں کہا کہ میرے شوہر نے کہا
  • حضرت عباس رضی اللہ عنہ کبی نہیں کہا میرے بھتیجے نے کہا
  • حضرت علیرضی اللہ عنہ کبی نہیں کہا میرے بھائی نے کہا
کوئی بھی اپنے رشتے کا نام ساتھ نہیں جوڑا ہو کوئی یہ ہی کہاتا ہے کہ میرے رسولﷺ نے یہ کہا ہے۔ یہ ہے میرے نبی ﷺ کی شان اور ان کے ساتھ رہنے والوں کی شان اُن دے دور کی شان۔

میرے اُپر جہنم کو پیش کیا گیا میں نے جہنم کا ملاہزہ کیا تو میں نے وہاں ایک عورت کو دیکھا اُس کی ایک بلی تھی اُس کی اُس بلی وجہ سے میں نے اُس کو عزاب میں مبتلہ دیکھا کیسے اُس کو بلی کی وجہ سے عزاب دیا جا رہا تھا اُ س نے بلی کو بھندا ہو تھا قید کیا ہوا تھا نہ وہ اُس کو دودھ دیتی تھی نہ کوئی کھانے کی کوئی چیز دیتی تھی اور نہ یہ اس کو چھوڑتی تھی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا کر اپنے پیٹ کی آگ بجھاسکے یہاں تک کہ وہ بھوک کی وجہ سے مر گئی۔ اَبﷺ نے فرمایا کہ بلی کی اُس مالکہ کو میں نے جہنم کی اُس آگ میں جلستے دیکھا اس کے علاوہ آپ ﷺ نے امر بن عامر کو وہاں دیکھا جو اپنے پیٹ کی آنتڑیاں جہنم کی آگ کی طرف دکہل رہا تھا یہ وہ شخص تھا جس نے دنیاں میں سب سے پہلے بتوں کی پوچا شرع کی تھی اسی نے بت بنائے تھے تو آپﷺ نے اس کو بھی وہاں جہنم کی آگ میں جلستے دیکھا تھا۔

Benefits Of Giving You Time To Your Children And Family ( آپنے بچوں اور گھر والوں کو وقت دینے کا فائدہ)

( عنوان:           ( آپنے بچوں اور گھر والوں کو وقت دینے کا فائدہ

ایک باپ جب تھکا ہارا گھر پہنچا تو اس کا کمسن بچھہ اُس کے انتظار میں دروازے پر ہی بیٹھا ہو تھا جب اُس کا باپ پہنچا اور اُس کے پاس بیٹھا تو بیٹھتے ہو بچے نے اپنے باپ سے  پوچھا کہ ابو میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں باپ بولا ہاں بیٹا کیوں نہیں پوچھو بیٹا بولا ابو آپ ایک گہنٹے میں کتیا کماتے ہیں باپ نے سوچتے ہو کہا پانچھ سو روپے بیٹے نے مایوسی میں اپنا سر جھکالیا پھر اس کے زہن میں ایک بات آئی تو اُس نے سر اُٹھا کر کہا کیا ابو آپ مجھے ڈھائی سو روپے قرض دیں گے باپ کا پارہ ایک دم چڑ گیا غصہ سے بولا گہٹیا کھلونے یا فضول چیزوں کے لئے قرض ماگنے سے بہتر یہ ہی ہے کہ اپنے کمرے میں جائو اور سو جائو بیٹا خاموشی سے مڑا اور کمرے میں جا کر کمرے کا دروازہ بند کر لیا جب باپ کا غصہ تھوڑا ٹھنڈا ہوا تو سوچنے لگا اس نے مجھ سے کبھی اتنے پیسے نہیں مانگے تو آج کیا وجہ ہو سکتی ہے یہ سوچتے ہوئے وہ بیٹے کے پاس گیا اور کہنے لگا دراصل آج میں نے بہت تھکا دینا والا دن گزارہے اس لئے ضبت نہ کر سکا اور تم پر غصہ ہو گیا یہ لو ڈھائی سو روپے بیٹے نے خوش ہو کر پیسے پکڑے اور کچھ پیسے اپنی جیب سے لکالے اور دونوں ملا کر گننے لگا یہ دیکھ کر باپ نے کہا جب تمہارے پاس اتنے پیسے ہیں تو مزید پیسوں کی ضرورت پڑ گئی بیٹے نے اب کمال کا جواب دیا در اصل میرے پیسے کم پڑ رہے تھے لیکن اب میرے پاس پورے پانچھ سو روپے ہو گئے ہیں اور پیسے باپ کی طرف بڑھا کر بولا کہ ابو میں آپ سے آپ کا ایک گہنٹہ خریدنا چاہتا ہوں پلیز مہر بانی کی جیئے کل آپ ایک گہنٹہ پہلے آجائیے گا تا کہ میں آپ کے ساتھ کھانا کھا سکوں۔ سوچیئے کہیں دنیاں کے کام کاج میں ہم اپںے گھر والوں کو وقت دینے میں کوتائی کر رہے ہیں یہ ہمارے ہی بچے ہیں ہمارے ہی گھر والے ہیں انہیں وقت دیجئے اور ان کے ساتھ زندگی کی بہترین لمحات گزارئیے ان کی اچھی تربیت کیجیئے کیوں کہ ہمارے مرنے کے بعد ہمارے ہی نیک بچوں نے ہمارے لیئے ایسالے ثواب کرنا ہے۔

( فرمانِ خاتم النبیینﷺ )
کوئی شخص اپنے بچے کو ادب کی تعلیم دے اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ ایک صاع خیرات کرے۔
 ( ترمزی )

کیا انبیاء کرام اپنی قبروں میں زندہ ہیں؟

کیا انبیاء کرام اپنی قبروں میں زندہ ہیں کہ نہیں ایک یہ بات ہے جس پر کافی اختلاف پایا جاتا ہے۔ بے شک انبیاء کرام اپنی قبروں میں زندہ ہیں کیا وہ ہماری طرح سے زندہ ہیں اس کے بارے میں کیا کہنا ہے۔

آقا کرمﷺ کے وسال کے تین دن بعد ایک عرابی ایک دہاتی دور دراز سے سفر کرکے آقاﷺ کے مزار پر پہنچا ناجانے کون کون سے راستے سے اپنے اندر کافی ساری آرزوہیں لے کر آپﷺ کے مزار پر پہنچاتھا۔ شہر میں پہنچا تو کسی نے بتایا کہ آپﷺ تو رحلت فرما گئے ہیں تو وہ بہت زیادہ سدمے سے دوچار ہوا اس کی یہ حالت ہے کہ وہ آپﷺ کےقبر انور پر آگیا اور آپﷺ کی قبر کی مٹی اپنے سر پر ڈالنے لگا اور ساتھ ساتھ روتا ہے اور اُس نے درد ناک اشار کہے اے وہ مقدس زاد جو اس سر زمین میں دفن ہیں میں آپ کی بارگاہ میں معافی مگنے آیا ہوں تو وہ یہ عرض کرتا ہوا روتا ہوا یہ فریاد کر رہاتھا کہ میں تو معافی کے بغیر جائوں گا نہیں تو صاحب مدارق نے لکھا ہے گمبدے خزرا سے آواز آئی جا تیرے گیاہ معاف کر دیے گئے۔


Fear Of Allah Almighty (اللہ تعالی کا خوف)

Sayyiduna Mansur bin Imamah RadiAllahu Ta'ala Anuhu Says that he had stopped in aplace at night time and he could hear someone screaming and crying and asking Allah for forgiveness so he stopped outside that persons house, the the one who was calling upon Allah, screaming and shouting and crying in the fear of Allah Jalla Wa Aala. 

He Says "O Allah, whenever I was sinning, not that I was unaware of You watching me - I knew You were watching me but Yaa Allah, You have given me so much ease in Dunya that it makes me brave in sinning. It is the ease that Youe given me.Do you know there comes a time in life when the signals stop comming... Remember that time in your life when you sinned and a punishment came immediately. That is a sign of a beloved of Allah. 

One who sins and Allah punishes him immediately. But then there comes a time if you keep insisting, if you keep sinning and you do not repent, there comes a time in your life When you sin and Allah stops punishing you and that is the greatest punishment. That is the greatest punishment for a person when the signals stop coming form Allah Jalla Wa Aala. Allah Jalla Wa Aala sends reminders, when He stops sending reminders that is a great punishment. So this person was saying " O Allah , the ease that You had given me had made me brave in sinning. Ya Allah, this is why I kept sinning. But O Allah, I sincerely ask for forgiveness." Now this person was calling upon Allah Jalla Wa Aala. Begging Allah Jalla Wa Aala for forgiveness. 

He was asking Allah to forgive him and he was shouting and screaming and making dua and shedding tears with the fear of Allah Jalla Wa Aala. Constantly, he was crying with the fear of Allah Jalla Wa Aala. Sayyiduna Mansur bin Imamah RadiAllahu Ta'ala Anhu said "I just remembered the Quranic verse about the fear of Allah and the punishment of Allah and he said "In Surah Tahrim, verse 6..." He said "I just recited that Quranic verse..." He said "I recited this verse of the Quran in Surah Tahrim." Which means 'O believers, save yourselves and your families from the fire of Hell. That fire the fuel of which is humans and rocks.' 

He said "The moment I recited this I heard someone fell to the ground and I heard that person scream and then I could not hear him after that." He said "I left from there and afterwards when I came back I saw a lot of people outside the house. People were crying and mourning the loss of that person and an old lady said 'There was a man who read verse 6 of Surah Tahrim in which the punishment of Allah Jalla Wa Aala is mentioned, that man is a murderer of my son because he recited this verse of the Quran and my son had so much fear of Allah Jalla Wa Aala. He should not have recited this verse of the Quran. It is him reciting the verse of the Quran that lead to the death of my son.' This man was suprised. He recited the verse of the Quran because he knew that this person was crying in the fear of Allah Jalla Wa Aala. So what happened? He said "I went home and went to sleep and I saw a person in my dream. 

He said to me 'Do you know I am the same person who was crying in the fear of Allah and you recited Surah Tahrim, because of that I died. That was the cause of my death.' Sayyiduna Mansur bin Imamah RadiAllahu Ta'ala Anhu said "How did Allah treat you? What happened to you? Where you forgiven or were you punished?" He said "Allah treated me the way he treated the martyrs of Badr." He said "How did Allah treat you like the way He treated the martyrs of Badr?" 

He Said "The martyrs of Badr were killed with the sword of the Kufar. And I was killed with the sword of Ishq. "This is Ishq. This is Love. He loved Allah Jalla Wa Aala. He was not crying only for the fear of punishment of Allah, he was crying with the love of allah because he feared the displeasure of allah Jalla Wa Aala. He was the true lover of Allah Jalla Wa Aala. This concept, constantly we will think about throughout the month of Ramadhan. Allah is watching. The moment your eyes want to look at haram, your ears want to listen to haram, your tongue wants to say something which is haram, constantly remind yourselves Allah is watching me.


Who Did The First Revelation Come From Prophet Muhammad ﷺ And Who Brought You ?

عنوان:           پہلی وحی آپﷺپرکیسے آئی اور کون لایاَ ؟

ایک نبی پاک ﷺ غارے حرح میں موجود تھے کہ اچانک غار میں ایک فرشتہ نمودار ہوا اور یہ جبرائیل علیہ اسلام تھے۔جبرائیل علیہ اسلام نے فرمایا کہ پڑہیے تو آپﷺ نے فرمایا کہ میں پڑھے لکھے والوں میں سے نہیں فرشتے نے آپ کو زور سے گلے لگایا اور پھر چھوڑ دیا اور دوبارہ کہا پڑہیے تو آپ ﷺ نے دوبارہ کہا کہ میں پڑہنے والوں میں سے نہیں فرشتے نے دوسری مرتبہ بھی وہی عمل کیا اور کہا پڑہیے تو آپﷺ نے دوبارہ وہی جواب دیا اور پھر فرشتے نے دیسری مرتبہ بھی وہی عمل کیا اور چھوڑ دیا اور کہا پڑہیے اور قرآن پاک کے ۳۰ پارہ کی  سورہ علق کی پانچھ آیات پڑھیں۔ اس طرح پہلی وہی آپﷺ پرغارہ حرہ میں نازل ہوئی تو آپﷺ ان پانچھ آیات کو یاد کرکے اپنے گھر چلے گئے اس کے بعد کیا ہوا جائے اس وڈیو میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, 6 February 2018

انسان کو کسی جانورسے تشبی دینا کیسا؟

سوال:         کیوں اپنے آپ کو کُتا کہتے ہیں اپنے آپ کو زلیل کرنے کی کیا وجہ ہے اور اسے کرنے سے کیا ملتا ہے آپ کو۔ اللہ تعالی نے سب سے اچھا بنایا ہے تو وہ انسان ہے پھر اپنے آپ کو کُتا کیوں کہتے ہو اللہ تعالی نے آپ کو عزت دی ہے تو اپنے آپ کو زلیل مت کرو۔

جواب:         کسی بھی انسان کو کسی بھی جانور سے تشبھی دینا یہ انسان کی عزمت کے خلاف ہے کہ انسان اشرفل مخلوکلات ہے حضرت علی  کا لقب شیرے خدا ہے ہالہ کہ شیر کا تھوک بھی ناپاک ہے تو اس لقب پر کوئی دہیان نہیں دیتا تو اس سے یہاں یہ شیر کا مطلب چار ٹانگوں والاجانور نہیں بلکہ شیر بہادری کی علامت ہے اسی وجہ سے شیرے خدا بولتے ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی اپنے آپ کو کُتا کہتا ہے تو اس سے مراد چار ٹانگھوں والا جانور نہیں بلکہ اپنے آپ کو پیارے نبیﷺ کے سامنے چھوٹے سے چھوٹا بنانا ہے۔