Pages

Monday, 5 February 2018

Purchase Things On Installment In Islam How ?

( عنوان:          ( کیا بینک سے گاڑی اقساط پر لینا جائز ہے کہ نہیں 

اگر بینک سے ہٹ کر کوئی چیز لیتا ہے چائے وہ مہنگی ہو اور اس میں خلاف شرح کوئی شرط نہیں تو وہ جائز ہے یعنی اگر کوئی چیز لینے کی لئے دو فریق کے درمیان طہ پایا کہ اتنے ماہ میں اتنی رقم کے ساتھ دینے والا یہ دے گا اور لانے والا لے گا اور اس کے علاوہ کوئی اور رقم ادا نہیں کرے گا اور نہ ہی اس طہ شدہ رقم سے ذاہد رقم کسی بھی صورت میں ادا نہیں کرے گا تو اسا لینا اور دینا جائز ہے۔

بینک کے چند مشائل۔ جس کی وجہ سے جائز نہیں اُن سے لینا۔

  • گاڑی کا انشورڈ ہونا
  • پیلنٹی کی صورت کا استعمال
  • اگر وقت پر ادا نہ کرپائے تو سب ختم



حضور نبی مکرمﷺ کیا نور تھے کہ نہیں جانئے ؟

  • توصیف الرحمن۔
کیا نور کا ٹکرہ نور نہیں ہوتا ہے اور نور وہ بھی اللہ تعالی کا تو یہ ہو گیا کہ آپ ﷺ اللہ ہیں تو اس لیے اللہ کے رسولﷺ ایک بشر ہیں نور نہیں ہیں۔
  • علامہ رضاثاقب۔
 ہماری نید میں ہماری وضو ٹوٹ جتا ہے اور نبیوں کی نید سے وضو نہیں ٹوٹتا کیوں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری آنکھیں سوتی ہیں میرا دل نہیں سوتا اور جاگ رہا ہوتا ہے حضورﷺ بشر بھی ہیں اور حضورﷺ نور بھی ہیں۔



Akka Sad La Madeeny (آقا سد لے مدینے) - Naat

آقا سد لے  مدینے   تے   تُر گئے   کتنے   سفینے
تے سد لے سب نو مدینے تے سد لے ایسے مہنے

کہو    اللہ    اللہ    اللہ    اللہ    اللہ    اللہ     اللہ     اللہ

دو   جہنا    دے    والی    دو    جہنا    دے    والی
 آپ دی  کملی   ہے   کالی   آپ   دی   شان   نرالی
 آپ دا   رتبہ   عالی   میں   تیرے   در   دا   سوالی
 میں        تے        نہیں           جانا           خالی 

کہو    اللہ    اللہ    اللہ    اللہ    اللہ    اللہ     اللہ     اللہ

آقا سد لے  مدینے   تے   تُر گئے   کتنے   سفینے
تے سد لے سب نو مدینے تے سد لے ایسے مہنے

کہو    اللہ    اللہ    اللہ    اللہ    اللہ    اللہ     اللہ     اللہ

دو   جہنا    دے    والی    دو    جہنا    دے    والی
 آپ دی  کملی   ہے   کالی   آپ   دی   شان   نرالی
 آپ دا   رتبہ   عالی   میں   تیرے   در   دا   سوالی
 میں        تے        نہیں           جانا           خالی 

کہو    اللہ    اللہ    اللہ    اللہ    اللہ    اللہ     اللہ     اللہ

میرے سوڑیاں  میں   کی   لیڑاں   ہے   دنیاں توں
میں تیرے در دا سوالی میں  تیرے   در   دا سوالی
انہوں   تھوڑ   نہ   کوئی      رب     دے     وچوں
جو دیرے در دا سوالی جو  تیرے   در   دا   سوالی

کہو    اللہ    اللہ    اللہ    اللہ    اللہ    اللہ     اللہ     اللہ


How A Deer (ہرنی) Talk To Prophet Muhammad ﷺ ?

 ( عنوان :         ( ہرنی کی آپﷺ سے گفتگو کرنا

ایک مرتبہ آپ ﷺ سہرا کے اندر چہل قدمی فرما رہے تھے تو دیکھا کہ ایک ہرنی ہے اُس نے آپﷺ کو آواز دی یا رسول اللہ ﷺ تو آپ نے اس ہرنی سے کہا تیری حاجت کیا ہے اس نے کہا اس عرابی نے مجھے شکار کر لیا ہے اور میرے اس پہاڑ کے اندر دو چھوٹے بچے ہیں آپ ﷺ مجھے کھول دیں میں وہاں جائو اور اپنے بچو کو  پانی پلاآئوں اور واپس آجائوں آپ ﷺ ہرنی سے بات کر رہے تھے اور ہرن آپ ﷺ سے بات کر رہی تھی آپ ﷺ نے ہرنی سے کہا کیا تو ایسا ہی کرے گی تو ہرنی نے کہا ہاں میں اسا ہی کروں گی تو آپ ﷺ نے اس ہرنی کو گھول دیا اور وہ گئی اور پھر واپس آگئی تو آپ ﷺ نے اس کو دوبارہ باند دیا۔

 عرابی جاگے اور آپﷺ سے کہنے لگے یَا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ کو مجھ سے کوئی کام ہے تو آپ ﷺ سے اس سے کہا کہ تو اس ہرنی کو آزاد کر دے تو اس عرابی نے اس ہرنی کو آزاد کر دیا اور وہ سہرا کے اندر دوڑتی ہوئی گئی اور اس کی زبان پر یہ کلمہ جاری تھا کہ میں اس بات کی گوائی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہں اور آپ ﷺ  اللہ تعالی کے آخری رسول ہیں۔


New Naat New Voice On New Year (نئی نعت نئی آواز نئے سال پر)

کیا  بات  مدینہ   کی   کیا   بات    مدینہ     کی

راتیں بھی مدینے کی  باتیں  بھی   مدینے   کی
جینے میں ہی جینا ہے کیا بات  ہے  جینے  کی

کیا بات   مدینے   کی   کیا   بات   مدینے   کی

تعریف   کے   لائق   جب   الفاط   نہیں   ملتے
تعریف کرے کوئی   کس   طرح   مدینے   کی

کیا  بات  مدینہ   کی   کیا   بات    مدینہ     کی

ارسا ہوا طیبہ کی گلویوں سے وہ گزرے  تھے
اس وقت بھی گلیوں میں خشبو ہے  پسینے  کی

کیا  بات  مدینہ   کی   کیا   بات    مدینہ     کی

راتیں  بھی  مدینے  کی  باتیں بھی  مدینے  کی
جینے میں ہی جینا ہے کیا بات ہے  جینے  کی

Sunday, 4 February 2018

A King Who Addiction Of Sleeps On The Flowers ( پھلوں پر سونے والا بدشاہ )

( عنوان:          ( پھلوں پر سونے والا بدشاہ

ایک بدشاہ تھا  وہ پھولوں کی سیج پر سویا کرتا تھا خادمہ اس کے لئے پھولوں کی سیج پچھایا کرتی تھیں مدد گز گئی پھولوں کی سیج پر سونے کا عادی تھا ایک دن خادمہ نے سوچہ کہ روزانہ بادشاہ پھولوں کی سیج پر سوتا ہے پتا نہین اس پر کتنا سکوں ملتا ہوگا کہ بدشاہ ہر روز اس پر سوتا ہے ایک دن وہ خادمہ اس پر سو گئی بادشاہ اپنے وقت پر سونے کے لئے آیا تو خادمہ سو رہی تھی اور غیرت سے جل بن کر  کباب ہو گیا کہ ایک خادمہ کی یہ اوقات کہ بادشاہ کی سیج پر سوئے اس نے ایک جلاد کو بلوایا اور کہا کہ اس کو اُلٹا لٹکا کر اتنا مارو کہ اس کی جان نکل جائے تاکہ باکی کی خادمائوں کو پتہ چل جائے  کہ بادشاہوں کےسیجیں ان کے بستر ان کے گھر کتنے مقدس ہوا کرتے ہیں تو جلاد نے ایسا ہی کیا اور اس کو اُلٹا لٹکا کر مارنے لگا اور وہ خادمہ رونے لگی چخنے لگی بچائو وہاں ہی اس  روتے روتے کیا خیال آیا کہ ہسنا شروع کر دیا تو بادشاہ نے جلاد کو رکنے کا حکم دیا اور کہا کہ اس سے پوچھو کہ وہ رو کیوں رہی تھی اور پھر ہسنا شروع کر دیا جلاد نے اس خادمہ سے پوچھا بول تو روتی کیوں ہے تو جواب دیا کہ تجھے نہیں پتا کہ کوڑا لگتا ہے تو میری جان نکلنے کو آتی ہے ہاں یہ توسمجھ ہے چل یہ بتا کہ ہستی کیوں ہے تو کہنے لگی کہ ہنستی اس وجہ سے ہوں کہ چند لمہوں کے لئے سوئی ہوں اتنی تکلیف سہہ رہی ہوں سوچتی ہوں عمر بھر ہوگئی جس کو سوتے ہوئے اُس کا کیا ہو گا۔

Glory To Forgiveness ( مغفرت کا راذ )

 ( عنوان:        ( مغفرت کا راذ

ایک شخص کو انتقال کے بعد خواب میں دیکھا اور پوچھا اللہ پاک نے مرنے کے بعد آپ کے ستھ کیا سلوک کیا جواب دیا کہ اللہ پاک نے میری مغفر فرما دی پوچھا کون سا عمل کام آیا جواب دیا ایک بار امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ دریا کے کنارے وضو فرما رہے تھے اور وہیں میں بلندی کی طرف پیٹھ کر وضو کرنے لگا جب میری نظر امام صاحب پر پڑی تو میں فورن تعزیمن بلندی سے پستی کی طرف آگیا بس یہی تعزیم ولی کام آ گیا  اور میں بخشا گیا۔